حدیقۃ الصالحین — Page 322
322 حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں اور یہو دیوں اور عیسائیوں کی حالت اس شخص کی حالت کی مانند ہے جس نے کچھ لوگ مزدوری پر لگائے کہ وہ اس کے لئے رات تک کام کریں تو انہوں نے آدھا دن کام کیا اور کہا ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔اس نے اوروں کو مزدوری پر لگایا اور کہا کہ تم اپنا بقیہ دن پورا کرو اور تمہیں وہی مزدوری ملے گی جس کی میں نے شرط کی ہے۔یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا یہ لو سنبھالو جو ہم نے کیا ہے۔اس پر اُس نے کچھ اور لوگ مز دوری پر لگائے اور وہ بقیہ دن کام کرتے رہے۔یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور انہوں نے دونوں گروہوں کی مزدوری پوری کی پوری لے لی۔۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلٍ مَنْ خَلاَ مِنَ الأُهمِ، مَا بَيْنَ صَلاةِ العَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ اليَهُودِ، وَالنَّصَارَى، كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمالًا، فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَعَمِلَتِ اليَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاةِ العَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ العَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ صَلاةِ العَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، أَلَا، فَأَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ العَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، أَلا لَكُمُ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ، فَغَضِبَتِ اليَهُودُ، وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُ عَطَاءٌ، قَالَ اللهُ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقَكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا لَا ، قَالَ فَإِنَّهُ فَضْلِي أُعْطِيهِ مَنْ شِئْتُ (بخاری کتاب احاديث الانبياء باب ما ذكر عن بنى اسرائيل 3459) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا زمانہ ان امتور کے زمانے کے مقابل میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں صرف اتنا ہی ہے جتنا کہ عصر کی نماز اور سورج کے غروب