حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 264 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 264

264 پیا۔اس کے بعد آپ سے عرض کیا گیا کہ بعض لوگوں نے (پھر بھی ) روزہ رکھا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا یہ نافرمان ہیں، یہ نافرمان ہیں۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الفَتْحِ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الغَيمِ، وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَ عَلَيْهِمُ الصّيَامُ ، وَإِنَّ النَّاسَ يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ فَدَعَا بِقَدَءٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ العَصْرِ، فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَأَفَطَرَ بَعْضُهُمْ، وَصَامَ بَعْضُهُمْ، فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ أُولَئِكَ العُصَاةُ (ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء في كراهية الصوم في السفر (710) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ لی لی یکم فتح مکہ کے لئے مدینہ سے چلے (تو رمضان کا مہینہ تھا)۔یہانتک کہ آپ كُراع العميم مقام پر پہنچے۔آپ کے ساتھ سب لوگوں نے بھی روزہ رکھا۔آپ سے عرض کیا گیا کہ روزہ کی وجہ سے لوگوں کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں آپ نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پیا اور لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔بعض نے روزہ کھول دیا اور بعض نے روزہ (رکھے) رکھا۔اس کے بعد آپ کو اطلاع دی گئی کہ اب بھی بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے اور انہوں نے پانی نہیں پیا )۔اس پر آپ نے فرمایا یہ لوگ نافرمان ہیں۔287- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (بخاری کتاب الصلاة التراويح باب فضل من قام رمضان (2009)