حدیقۃ الصالحین — Page 140
140 القلوب ثبت قلبى عَلَى دِينِكَ ؟ قَالَ يَا أَمَّ سَلَمَةَ إِنَّهُ لَيْسَ ادَى إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أَصْبُعَيْنِ من أصابع اللَّهِ، فَمَنْ شَاءَ أَقَامَ ، وَمَنْ شَاءَ أَزَاغَ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فى عقد التسبيح باليد 3522) حضرت شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا کہ اے ام المومنین رسول اللہ صلی الیکم جب آپ کے یہاں ہوتے تھے تو زیادہ تر کون سی دعا کرتے تھے۔اس پر حضرت ام سلمہ نے بتایا کہ حضور علیہ السلام اکثر یہ دعا پڑھتے تھے "يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِتُ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ “ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ ہم سے اس دعا پر مداومت کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ ! ہر انسان کا دل خدا تعالیٰ کی دو انگلیوں کے در میان ہے، جس شخص کو ثابت قدم رکھنا چاہے تو اس کو ثابت قدم رکھے۔اور جس کو ثابت قدم نہ رکھنا چاہئے اس کے دل کو ٹیڑھا کر دے۔م سة 114- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً عَنِ النَّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا يُحْيِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَذْنَبَ عَبْدُ ذَنْبًا، فَقَالَ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبِّا يَغْفِرُ الذَنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَنْبِ، ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ، فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدِى أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبِّا يَغْفِرُ الذُّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ، ثُمَّ عَادَ فَأَذْنَبَ فَقَالَ أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذُّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِالذَنْبِ، اعْمَلُ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ (مسلم کتاب التوبة باب قبول التوبة من الذنوب وان تكررت الذنوب والتوبة 4939) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللی کم نے اپنے رب عزو جل سے حکایت کے طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک بندہ نے گناہ کیا اور پھر عرض کیا اے اللہ ! مجھے میر ا گناہ بخش دے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ