حدیقۃ الصالحین — Page 117
117 82 عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِي، قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ - أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ - قَالَ فَلَمَّا عَلا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى، فَرَفَعَ صَوْتَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، قَالَ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى - أَوْ يَا عَبْدَ اللهِ - أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى، قَالَ لَا حَوْلَ ولا قوة إلا بالله (بخاری کتاب الدعوات باب قول لا حول ولا قوة الا بالله 6409) - حضرت ابو موسیٰ اشعری نے بیان کیا کہ نبی صلی یہ کم ایک گھاٹی میں گئے یا کہا پہاڑ کے موڑ میں۔(راوی نے) کہا جب اس کی بلندی پر پہنچے تو ایک آدمی نے پکارا اور اس نے اپنی آواز کو بلند کیا۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أكبر اور رسول اللہ صلی ا لم اس وقت اپنی خچر پر سوار تھے۔آپ نے فرمایا تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ کسی غیر حاضر کو۔پھر فرمایا اے ابو موسیٰ کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کا خزانہ ہے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ضرور جتلائیں ؟ آپ نے فرمایا لا حَوْلَ وَلا قُوَةً إِلَّا بِاللهِ ( بدیوں سے بچنے کی طاقت نہیں اور نیکیوں کے کرنے کی قدرت نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے)۔83ـ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ، وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ، نَطْلُبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّي لَنَا، فَأَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُل شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ قُلْ، فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ قُلْ فَقُلْتُ مَا أَقُولُ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوَذَتَيْنِ حِينَ تُمسِى وَحِينَ تُصْبِحُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (ابو داؤد کتاب الادب باب ما يقول اذا أصبح 5082) حضرت عبد اللہ بن حبیب بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک بارش اور سخت تاریک رات میں نکلے۔ہم رسول اللہ صلی ا یم کو تلاش کر رہے تھے تا کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں۔پس ہم نے آپ کو پالیا۔آپ نے فرمایا کہو۔میں نے کچھ