حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 115 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 115

115 حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے۔تم کہاں سے آئے ہو ؟ تب وہ کہتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو زمین میں ہیں وہ تیری تسبیح اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔تیری تہلیل (لا الہ الا اللہ کا ورد کرنا) اور تیری حمد بیان کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے۔اللہ فرماتا ہے وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے ؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے۔وہ (اللہ) فرماتا ہے کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے ؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں اے میرے رب! اللہ فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری جنت دیکھ لیں۔وہ عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔وہ ( اللہ ) فرماتا ہے وہ کس چیز سے پناہ چاہتے ہیں۔وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یارب ! تیری آگ سے۔اللہ فرماتا ہے کیا انہوں نے میری آگ دیکھی ہے ؟ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں نہیں۔وہ ( اللہ ) فرماتا ہے کیا حال ہو اگر وہ میری آگ دیکھ لیں۔تب وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں وہ تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں پھر اللہ فرماتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور جو انہوں نے مانگا میں نے انہیں عطا کیا اور جس چیز سے انہوں نے پناہ طلب کی میں نے انہیں پناہ دی۔حضور صلی ا یکم فرماتے ہیں اس پر وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں یارب! ان میں فلاں سخت خطا کار شخص بھی تھا جو وہاں سے گذرا تو ان کے پاس بیٹھ گیا۔آپ نے فرمایاوہ ( اللہ ) فرمائے گا میں نے اسے بھی بخش دیا کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں ان کی بدولت ان کے پاس بیٹھنے والا بے نصیب نہیں رہتا۔79 - عَن ابْن عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ أَى جُلَسَائِنَا خَيْرٌ قَالَ مَنْ ذَكَّرِ كُمُ اللهَ رُؤْيَتُهُ وَزَاد فِي عِلْيكُم مَنْطِقُه وذَكِّركُمْ بِالآخِرَة عَمَلُهُ (الترغيب والترهيب للمنذري ، الجزء 1 كتاب العلم ، التَّرْغِيب في مجالسة العلماء (163) حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! کس کے پاس بیٹھنا بہتر ہے آپ صلی میں کم نے فرمایا ایسے شخص کے پاس بیٹھنا مفید ہے جس کو دیکھنے کی وجہ سے تمہیں خدا یاد آجائے۔جس کی باتوں سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل کو دیکھ کر تمہیں آخرت کا خیال آئے۔