ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 266
۲۶۶ یعنی انہوں نے اس کے حقیقی معنوں کو چھوڑ کر مجازی معنوں کو اختیار کیا ہے۔کیونکہ حقیقت اور مجاز دونوں ایک وقت میں ایک لفظ میں جمع نہیں ہو سکتے اس لئے اس کے دیگر معنے چھوڑنے پڑیں گے۔این رشد کہتے ہیں کہ وہ لوگ جن کے نزدیک مشترک لفظ میں عمومیت ہوتی ہے اور اس سے حقیقی اور مجازی دونوں معنے بیک وقت لئے جاسکتے ہیں ان کا یہ قول نہایت درجہ ضعیف ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔کیا دوبارہ نکاح سے ظہار کا حکم دوبارہ لازم آتا ہے اگر کوئی شخص ظہار کے بعد کفارہ ادا کرنے سے قبل طلاق دیدے پھر اس سے نکاح کرلے تو کیا یہ ظہار دوبارہ عود کر آئے گا یا نہیں ؟ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس نے تین سے کم طلاقیں دی تھیں اور عدت کے اندر یا بعد اس نے رجوع کر لیا تھا تو اسپر کفارہ واجب ہے۔امام شافعی " کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس نے عدت کے اندر رجوع کیا ہے تو اس صورت میں اس پر کفارہ لازم ہے لیکن اگر اس نے مدت کے بعد رجوع کیا۔یعنی نکاح جدید کیا تو اس صورت میں اس پر کفارہ واجب نہیں ہے امام شافعی جیسے امام مالک کے موافق بھی ایک قول منقول ہے۔امام محمد بن حسی کے نز دیک ظہار کا حکم دوبارہ عود کر آتا ہے خواہ اس نے تین طلاقوں کے بعد رجوع کیا ہو یا ایک طلاق کے بعد۔وجد اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء میں اس بارہ میں نزاع ہے کہ کیا طلاق سے تمام احکام زوجیت ساقط ہو جاتے ہیں یا نہیں ؟ بعض کے نزدیک بالن طلاق سے پہلے احکام ساقط ہو جاتے ہیں اور تین طلاقوں سے کم میں پہلے احکام ساقط نہیں ہوتے۔بعض کے نزدیک کسی قسم کی طلاق سے بھی پہلے احکام ساقط نہیں ہوتے۔