گلشن احمد

by Other Authors

Page 74 of 84

گلشن احمد — Page 74

146 145 رواج رہا۔مسلمان خواتین اور پردہ لازم ملزوم سمجھا جاتا تھا۔اسلام پھیلنے کے ساتھ جس جس ملک میں اسلام کا پیغام گیا۔خواتین کا پردہ تسلیم شدہ حقیقت کی طرح ساتھ گیا۔اگر چہ ملکی رسوم و رواج کا دخل رہا۔عرب علاقوں میں پردہ کی شکل مختلف تھی۔برصغیر میں اور ہوگئی۔آہستہ آہستہ برصغیر میں پردہ پر عمل درآمد میں اتنی شدت آگئی کہ عورت کی جائز آزادی بھی سلب کر لی گئی۔اس کا رد عمل ہوا۔انگریز کی آمد کے ساتھ جو بے پردگی کی لہر آئی اس کے ساتھ حاکم قوم کی نفسیاتی بالا دستی بھی شامل تھی پھر ہندوؤں کے اثر سے بھی مسلمان عورت پردے سے باہر آئی تو اسے ترقی پسندی کا نشان سمجھنے لگی۔دیکھنا یہ ہے کہ جن اقوام میں عورت کا پردہ نہیں اور آپس میں مرد عورت کے آزاد نہ میل ملاپ کا رواج ہے۔انہوں نے اس آزادی سے کیا حاصل کیا۔زیادہ پاکیزہ معاشرہ نے جنم لیا، خاندانی حالات سدھر گئے؟ یا مختلف قسم کی اخلاقی برائیوں کے راستے کھل گئے؟ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں جماعت احمد یہ عطا کی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے میں دین کو زندہ کرنے اور شریعت کو قائم کرنے کے لئے تشریف لائے اس طرح ہمیں پردے کا وقار اور حیا نصیب ہوئی۔اب احمدی عورت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قرآنی منشا کے مطابق پردہ اُس کی پہچان ہے۔مگرامی آنٹی۔۔تو بغیر برقع کے بازار میں نظر آتی ہیں۔بچی۔جی ہاں امی میں نے بھی آنٹی کو دیکھا تھا اپنی بیٹی کی شادی میں سڑک پر کھڑی ہو کر بارات کا استقبال کر رہی تھیں۔۔۔۔۔ماں۔نہیں نہیں پیارے بچو یہ ہمارا کام نہیں اس طرح نام لے کر دوسرے کی کمزوری کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔اسلام نے پردے کی اصولی بات کی ہے۔یہ ایک معیار ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہوتا ہے اس پر ہم اعتراض کرنے کے مجاز نہیں اگر ہم اصلاح چاہتے ہیں تو پہلے اپنی ذات سے شروع کریں اور اپنا نمونہ دکھائیں۔خوب ترقی کریں اور پھر بتائیں کہ پردے ترقی میں روک نہیں بلکہ وہ وقار اور عزت میں اضافہ کرتا ہے۔احکام الہی پر عمل درآمد خدا تعالیٰ کا مقرب بناتا ہے۔آپ کو چونکہ دنیا کے سامنے صحیح پردے کی روح کے متعلق بتانا ہے۔اس لئے میں آپ کو چند اقتباسات سناتی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اسلام نے جو حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض ہے کہ نفسِ انسانی پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچا رہے۔کیونکہ ابتدا میں اُس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا کسی لذیذ کھانے پر۔انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔“ ( ملفوظات جلد ہفتم ص 126) آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو اگر یہ درست ہو جائے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات سے مغلوب نہ ہوں تو اُس وقت بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گو یا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ( ملفوظات جلد ہفتم ص153) ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- تم لاکھ بہانے تراشو اور لاکھ عذر پیش کرو کہ ہم اسلامی پردے میں شدت اختیار کر رہی ہیں اور یہ کہ اسلامی پردہ