گلدستہٴ خیال — Page 79
29 بابرکت زندگی کے بابرکت زندگی کی پہچان یہ ہے کہ یہ خدائی انعامات سے نوازی جاتی ہے ہر شخص زندگی میں خدا کے انعامات سے تھوڑے یا زیادہ رنگ میں نوازا جاتا ہے جس کے لئے انسان کو مشکور ہونا چاہئے لیکن بہت لوگ ان انعامات کی ناقدری کرتے ہوئے شکر گزار نہیں ہوتے صحت اور دولت۔رشتہ دار اور دوست جملہ انعامات میں سے چند ایک ہیں جب ہم اپنا موازنہ اپنے سے کم تر لوگوں سے کرتے ہیں تب ہمیں اسکا احساس ہو تا ہے اور ہم ایسے انعامات خداوندی کا شکر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے : آن شكر الله - و مَن يَشْكُر فَا نَمَا يَشكُرْ لِنَفْسِهِ ( سورة ۳۱ آیت (۱۳) الله کا شکر ادا کر۔اور جو شخص بھی شکر کرتا ہے اس کے شکر کرنیکا فائدہ اسی کی جان کو پہنچتا ہے پھر ایک جمہ ارشاد ہوتا ہے لا يُفلِحُ الكَافِرُون ( سورة ۲۸ آیت (۸۳) نا شکر انسان کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا ہے كَذَلِكَ نَجْزِى كُلِّ كَفُور ( سورة ۳۵ آیت ۷ (۳)۔ہم نا شکر انسان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں مادی چیزوں کا ہونا اس بات کی علامت نہیں کہ بابرکت زندگی تخلیق میں آوے بچے منعم لوگ وہ ہیں جو برکات اپنے نفس کے اندر پیدا کرتے ہیں وہ خود کو خدا کے حضور موجود تصور کرتے نیز وہ خدا کو اپنے نفس کے اندر موجود پاتے ہیں وہ آسمانی نور سے منور ہوتے اور وہ اس نور کو جہاں بھی وہ جاتے ہیں خوب ہی پھیلاتے ہیں انکے طور واطوار نیک ہوتے اور ان کے قلوب خدا کی محبت اور معرفت سے چمک رہے ہوتے ہیں انکی خوشی کا مدار مادی اشیاء پر نہیں ہو تا بلکہ خدا سے تعلق پر منحصر ہوتا ہے خدا کے وجود کا احساس وہ اپنے اندر یوں محسوس کرتے کہ ان کے جسم کا ہر خلیہ روحانی بعاشت سے زندہ و تابندہ ہو جاتا ہے اسکی زندگی میں تقدس کی