گلدستہٴ خیال — Page 58
۵۸ شائستہ اخلاق کے اللہ تبارک و تعالیٰ کی پیاری کتاب قرآن کریم میں سید ولد آدم آنحضور علی کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے وَإِنَّكَ لَعَلى خُلق عظیم ( سورۃ ۶۸ آیت (۵) بے شک آپ اخلاق حسنہ کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔اخلاقی کردار کے قوانین تمام ادیان نے اپنے ماننے والوں کیلئے وضع کئے ہیں انہیں بعض میں اختلاف ہے مگر انکی اکثریت تمام مذاہب میں ایک جیسی ہے مذہب کے ماننے والوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اپنے دین کی جملہ خوبیوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہوں اور انہیں ان جملہ خوبیوں کا اظہار سب سے اعلیٰ رنگ میں کرنا چاہئے بلکہ یہ پیرو کار اپنے مذہب کے اخلاق کا اعلیٰ درجہ تک اظہار کریں انکے تن کے اندر ان خوبیوں کے اظہار کے لئے اتنی تڑپ ہو جتنی سمندر میں بے تالی ہوتی ہے قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے فاستبقو الخيرات (سورۃ ۲ آیت ۱۴۹) تم نیکیوں کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو پھر ایک جگہہ ارشاد ہوا ہے إِن اكْرَمَكُم عِندَ اللَّهِ أَنقُكُم - (الحجرات) یقینا اللہ کی نگاہ میں تم میں سے سب سے زیادہ افضل شخص متقی ہی ہے بعض نادان لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے کیلئے بہت تگ و دو کرتے ہیں مگر عقل مند شخص خدا کی رضا کا ہی طلب گار ہوتا ہے اس سلسلہ میں وہ اپنے اندر زہد و تقویٰ پیدا کرتا ہے کیونکہ تقویٰ بھی فی الحقیقت خدا کی صفات اور اسکی رضا مندی کے اظہار کا مناسب ذریعہ ہے۔مومن اپنے تن کو تقویٰ کے لباس سے چھپا لیتا ہے کیونکہ تقویٰ کا لباس ہی در حقیقت سب سے اعلیٰ لباس ہے ارشاد ربانی ہے ولباس التقوى ذلك خير ( سورة ۷ آیت ۲۷) تقویٰ کا لباس زینت کے لحاظ سے اعلیٰ لباس ہے |