گلدستہ — Page 92
۹۲ یہ کہ آپ کے دوستوں کو یہ غلط فہمی کیوں ہے۔کہ ہم آنحضور صلی اللہ یہ وقتم کو خاتم النبین نہیں مانتے تاکہ آپ کا دل مطمئن ہوا اور آپ دوستوں کو بھی اچھی طرح صحیح مطلب سمجھا سکیں۔بچہ : قرآن پاک سے بات شرور کیجئے گا مان ، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صفاتی نام تیائے ہیں جن میں سے ایک خاتم النبین بھی ہے۔میں آپ کو ایک آیت سناتی ہوں سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِينَ (الاحزاب : ٢١) اس کا ترجمہ ہے کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔بچہ : یہ تو اس طرح لگتا ہے کہ یہ آیت کوئی خاص بات سمجھانے کے لئے نازل ہوئی ہو۔ماں ، بالکل صحیح ! واقعہ یہ ہوا تھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کو اپنا منہ بولا بیٹا تبا لیا تھا اور اُن کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینی سے کر دی تھی۔لیکن دونوں کا مزاج نہ ملا۔حضرت زید نے ان کو طلاق دے دی۔کچھ عرصہ کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب سے شادی کر لی۔مخالفین کو ایک موقع ہاتھ آگیا۔شور کرنے لگے کہ آپ نے اپنی بہو سے شادی کر لی جو منع ہے۔مخالفین کے اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس طرح دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی رو کے f باپ نہیں " یعنی آپ کا کوئی حقیقی بیٹا نہیں۔منہ بولا بیٹا جسے متبنی کہتے ہیں۔