گلدستہ — Page 120
۱۲۰ ہونے کے لئے اُسی طریق پر چلتا ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق ہے۔سالگرہ کی رسم منانا الحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا طریق نہیں۔آپ کی اور آپ کے بچوں کی سالگرہ کبھی نہیں منائی گئی۔خلفائے راشدین اور دوسر صحابہ کر ان کی سالگرہ نہیں منائی گئی پھر سینکڑوں سال تک مسلمانوں میں یہ رسم نہیں آئی۔برصغیر میں انگریزوں کے آنے سے یہ رسم آئی اور ان کی نقالی میں جہاں اور بہت سی رسمیں آئیں یہ رسم بھی آگئی، کچھ اس میں ہمیں ہندئوں سے آئیں۔آج کل بچے کی پیدائش پر شادی بیاہ کے موقعوں پر اور کسی کی وفات پر جو ریمیں کی جاتی ہیں اکثر بعد میں شامل ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے اس زمانے کے مہدی کو مان لیا جن کو دین میں سے غلط باتیں ہٹانے کا کام سونپا گیا تھا۔اب ہمارے سامنے اُن کا طریق بھی ہے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی سالگرہ کبھی نہیں منائی گئی۔آپ کے بچوں کی ہمارے پیارے خلفاء کی سالگرہ بھی نہیں منائی گئی۔موجودہ خلیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد اور آپ کے بچوں کی بھی نہیں منائی جاتی۔اب آپ خود دیکھ لیں کہ یہ رسم کرنی چاہیے یا نہیں۔بچه۔مگر دوسروں کو سمجھانا بہت مشکل ہے۔ماں۔کچھ مشکل نہیں آپ یہ بتائیے کہ ہم ایک خدا کو مانتے ہیں۔ہمارا ہر کام خدا تعالیٰ کو نوش کرنے کے لئے ہونا چاہیے۔خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے سارے طریق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ جانتے تھے۔آپ کے بعد خدا تعالی کو خوش کرنے کا کوئی نیا طریق کوئی نہیں بتا سکتا۔اگر کوئی نئی بات داخل کرے گا تو وہ دین میں نئی بات داخل کرے گا۔صرف سالگرہ کی رہم ہی نہیں کوئی بھی ایسی رسم جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں