غنچہ

by Other Authors

Page 68 of 76

غنچہ — Page 68

68 تھا سپاہی احمدیت کا میں ننھا سا سپاہی ہوں شیر کا رکھتا ہوں میں جو دل تو چیتے کا جگر کا پرچم اُڑانا مجھے ہے وہر میں اسلام ان مصائب کا نہیں دل میں مرے خوف و خطر بزدلوں کو ہوں مبارک اس جہاں کی پستیاں میں جواں ہمت ہوں میری ہے بلندی پر نظر دل میں ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ ہے نہاں اک ذرا بچپن کی یہ مجبوریاں جائیں گزر اللہ اللہ اب یہ پاک کا انکار کیوں جس کی آمد کی گواہی دے گئے شمس و قمر پیغام بیداری مخملیں پھولوں پہ شبنم کی پری سوتی ہے احمدی بچو اُٹھو صبح صدا دیتی ہے كل وقت آتا ہے کہ ہر بار اُٹھانا قوم کے سوئے مقدر کو جگانا ہے آج کے دور کے ہر درد کا چارا تم ہو تمہیں کے دکھ بانٹو غلامان مسیحا تم ہو