مرزا غلام قادر احمد — Page 54
54 کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام آں جواں مرد و حبیب کردگار جوہر خود کرد آخر آشکار اُس جواں مرد اور خدا کے پیارے نے آخر کار اپنا جو ہر ظاہر کر دیا نقد جاں از بهر جاناں باخته دل ازیں فانی سرا پرداخته معشوق کے لئے نقد جان لٹا دیا اور اس فانی گھر سے دل کو ہٹا لیا پُر خطر ہست این بیابانِ حیات صد ہزاراں اثر دہائش در جهات یہ زندگی کا میدان نہایت پُر خطر ہے اس میں ہر طرف لاکھوں اثر د ہے موجود ہیں دینگر این شوخی ازاں شیخ عجم ایس بیاباں کرد کے از یک قدم اس شیخ عجم کی یہ شوخی دیکھ کے اُس نے بیاباں کو ایک ہی قدم میں طے کرلیا جاں بصدق آن داستان را داده است تاکنون در سنگها افتاده است اس نے وفا داری کے ساتھ اپنی جان اپنے محبوب کو دے دی اور اب تک وہ پتھروں کے نیچے دبا پڑا ہے این بود رسم و ره صدق وفا این بود مردان حق را انتہاء راه صدق و وفا کا یہی طور و طریق ہے اور یہی مردانِ خدا کا آخری درجہ ہے از پئے آں زندہ از خود فانی اند جاں فشاں بر مسلک ربانی اند اُس زندہ خدا کی خاطر انہوں نے اپنی خودی کو فنا کر دیا اور الہی طریقہ پر جاں نثار کرنے والے بن گئے نیست شو تا بر تو فیضانے رسد جاں پفشاں تا دگر جانے رسد اپنی ہستی کو فنا کر دے تا کہ تجھ پر فیضانِ الہی نازل ہو جان قربان کر تا تجھے دوسری زندگی ملے۔(تذکرۃ الشہادتین سے چند اشعار )