مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 437 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 437

437 جماعت احمدیہ جہلم مجلس عاملہ جہلم شہر وضلع خدائی بشارتوں کے تحت وہ اپنے وقت پر آیا اور اپنی قلیل عمر میں عظیم کاموں کی بنیاد ڈال کر عظیم شان اور سرخروئی کے ساتھ اپنے آقا کے پاس واپس چلا گیا۔اپنے کردار، اپنی شخصیت، اپنی خدمات اور شجاعت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ گیا کہ نونہالان جماعت کے لئے تا قیامت مشعلِ راہ ہوں گے۔وہ جدید ترین دنیوی علوم کا ماہر۔خدا اور اُس کے دین کی چوکھٹ پر سب کچھ نثار کر گیا وہ اپنے خون سے دشمنوں کو وہ زک پہنچا گیا کہ چشم دجل حیراں ہے اور دعویٰ دارانِ محبت کی آنکھ جب بھی اُس کی شہادت پر نظر کرے گی، خیرہ ہوگی۔مبارک وہ وجود کہ جن کے صلب سے یہ گوہر گراں مایہ منسوب تھا۔مبارک وہ قوم جس کا یہ سپوت تھا۔اور مبارک وہ روحیں جو اس عظمت کو پانے کی کوشش کریں گی۔مبارک وہ آہیں اور وہ آنسو کہ انتہائے صبر و رضا۔تشکر و امتنان، محبت اور فطری غم سے جن کی ترکیب ہوئی ہے۔مبارک وہ سوگواران کہ جوحسن صبر کی عظیم مثالیں قائم کر رہے ہیں اور کیا ہی رزق ہوگا جو اس عظیم شہادت کے جاری فیض سے وہ پائیں گے۔وہ خدا ہی کا تھا۔عشق اور مہر و وفا کا نشان، خدا کی اور اُس کے دین کی پکار یہ شار، دشمن کی یلغار کے مقابل پہ تنہا اک کوہ گراں، سربلند وسُرخرو شہدا کے گروہ کا ایک سرخیل، جنت نشان جنت مقام اے مرزا غلام قادر شہید تجھ پر سلام۔ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی تیری