مرزا غلام قادر احمد — Page 388
388 اُس کا وجود باعث ترویج علم وفن وہ معدنِ علوم تھا شیریں مقال تھا یہ خون رائیگاں تو کبھی بھی نہ جائے گا جس کا مسیح پاک سے اک اتصال تھا یہ کس کا خون ہے جو بہا ہے زمین پر نور نظر مجید کا، قدسیہ کا لال تھا لاریب یہ ہے خون مبشر وجود کا جو سبط میرزا تھا مسیحا کی آل تھا ہائے کلیجہ کیوں نہ پھٹا اُس زمین کا جس پر گرا ہوا یہ مسیحا کا لال تھا راضی رہے خدا کی رضا پر مگر نسیم ہر دل میں ایک درد تھا رُخ پر ملال تھا میاں نسیم احمد طاہر گولڈ اسمتھ ربوہ (20 اپریل 1999ء)