مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 386 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 386

386 خدا کے فضل و کرم کا وارث بنا ہے پیارا غلام قادر سحر کی جس سے نمو ہوئی ہے وہ ہے ستارہ غلام قادر تری ذہانت، تری فطانت، تری بلاغت، تری شجاعت خدا کے فضلوں۔کرامتوں کا بنا نظارہ غلام قادر گھلا ہے باپ ارم کہ آیا ہے آج جنت میں چاند بن کے خلیفہ رابع کا جانِ جاناں حسین و پیارا غلام قادر خدا کی ہیبت عذاب بن کے عدو کی روحوں کو چیر دے گی خدا کی قدرت کا بن گیا ہے عجب شرارہ غلام قادر جگر پہ مگھریاں کی چل رہی ہیں تڑپ رہا ہے یہ سیف منتظر سی کہ چھن گیا ہے ہمارا مونس حسیں سہارا غلام قادر شیخ سلیم الدین سیف الفضل 7 جون 1999ء) وہ مسکراتا حسین چهره فقط تبسم سراپا اُلفت ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہاں دلوں سے فرار ہو گا وہ نقش بن کے رہے گا سینوں میں، عزم کا سر بلند راہی یہاں بھی بازی ہے اس نے جیتی، وہاں بھی وہ شہسوار ہو گا