مرزا غلام قادر احمد — Page 323
323 گزرتا رہا کہ آپ نے تو ایسے بیٹے کے قدموں سے جنت لے لی جو پہلے اس نے آپ کے قدموں سے لی تھی۔ہر چند مضمون بہت درد ناک ہے مگر اتنا درد ناک خط تو نہ لکھا کریں کہ دم ہی نکال دے۔عبید اللہ علیم مرحوم کا یہ مصرع دماغ میں گھوم رہا تھا اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے پہلے بھی میں آپ سب کے لئے بہت درد سے تہجد میں بلا ناغہ دُعا کرتا ہوں مگر آپ دونوں کے خطوط کے بعد آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی نڈر والا معاملہ ہو گیا ہے۔جس کے حضور یہ تڑپ ہے وہی اس درد کا درمان کرے گا۔میرے لئے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بے حساب بخش دے راضية مرضية قرار دیتے ہوئے اپنے بندوں اور اپنی جنت میں داخل فرمائے۔ہمیشہ سے دل کی یہی تڑپ رہی ہے ہمیشہ دل کی یہی تڑپ رہے گی کہ اے کاش میرا انجام اس کی نظر میں نیک ٹھہرے۔آمین! والسلام