مرزا غلام قادر احمد — Page 128
128 پڑی اور وقت بھی کافی صرف ہوا۔لیکن قادر نے ایک دن بھی ضائع کئے بغیر فوراً ہی کام کی تلاش شروع کر دی اور اس کے لئے کوئی بہت اچھی جاب پیش نظر نہیں رکھی۔بلکہ جیسے ہی کام ملا شروع کر دیا اور کام بھی ایسا جو بظاہر ہمارے مخصوص معاشرتی ماحول میں تربیت پانے والے شخص کے لئے شائد ذرا معیوب بھی ہو۔یوں تو امریکہ میں صدر کا بیٹا بھی کام کر کے فخر محسوس کرتا ہے اور وہاں کے ماحول کے لحاظ سے یہ کوئی عجیب بات نہ تھی۔بلکہ عام سی بات تھی۔لیکن قادر کو دیکھ کے لگتا تھا کہ امریکہ آنے سے پہلے ہی اس نے اپنے آپ کو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار کیا ہوا تھا۔دراصل وہ یہ بات جانتا تھا کہ امریکہ جیسے مہنگے ملک میں تعلیم کا حصول کوئی آسان بات نہیں۔پھر اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ بچپن ہی سے کسی پر بوجھ بنا پسند نہیں کرتا تھا۔اسی لئے حضرت المسیح الثانی کے اس خوبصورت شعرے بھولیو مت کہ نزاکت ہے نصیب نسواں مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ کے مصداق اس نے اپنی زندگی کو ڈھال لیا تھا۔“ ہو نصرت بتاتی ہیں کہ امریکہ میں سمسٹر کے دوران Weekend پر کام ہوتا۔پانچ دن خوب پڑھائی ہوتی تھی۔چھٹی کے دن صبح برگر بناتے۔شام کو Pizza Delivery کا کام ہوتا جبکہ چھٹیوں میں برابر کام کرتے تاکہ فیس کی رقم جمع کر سکیں اور اس میں کوئی عار محسوس نہ کرتے۔یونیورسٹی کے ایک کلاس فیلو کے تاثرات :