غلبہء حق — Page 48
ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا اور یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اُس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم و تربیت پائیں۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہو گا۔اس لیے اس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک بنی کے ظاہر ہونے کے متعلق ایک پیشگوئی ہے ؟ ور نہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول ہے رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنھوں نے آنحضرت کو نہیں دیکھا " مہ حقیقۃ الوحی ص ) مولوی محمد علی صاحب کا خلافت حقہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت اس تفسیر سے انحراف سے انکار کے بعد مولوی محمد علی صاحب اور اہل پنجایم صراط مستقیم سے اتنے دور جا پڑے کہ سلسلہ احمدیہ کی خصوصیات اور تعلیمات کو بالکل چھوڑ بیٹھے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف آیت آخرین منم کی تفسیر میں اور حدیث لناله رجل من فارس کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی مندرجہ بالا تفسیر کے خلاف لکھتے ہیں :-