غلبہء حق

by Other Authors

Page 26 of 304

غلبہء حق — Page 26

E بحث کی ہے۔مگر یہ امر سخت قابل افسوس ہے کہ انہوں نے اس بحث میں ہمارے پیارے امام سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے خلاف نہایت یبانی بے ادبی اور گستاخی سے کام لیا ہے۔جس کی کسی متدین اور شریف مسلمان سے توقع نہیں کی جا سکتی۔جو گندہ طریق انھوں نے اختیار کیا ہے اس کی نہ دنیا کا کوئی قانون اجازت دیتا ہے نہ شریعت محمدیہ۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ مذہبی بحثوں میں ذاتی حملوں پر اس لیے اُتر آتے ہیں کہ وہ اپنے دلائل کی کمزوری کو فریق ثانی پر نا جائز حملوں کے پردہ میں چھپا سیکسں۔اور وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اپنے مد مقابل پر گند اُچھالے بغیرہ اپنی بحث کی کمزوری پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف آریوں اور عیسائیوں نے گند اچھالنے کا جو طریق اختیار کر رکھا تھا افسوس ہے کہ ہمارے مقدس امام حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ممتاز احمد صاحب فاروقی بھی آپ کے خلاف اُنہی کی روش پر چل نکلے ہیں۔اور عیسائیوں اور آریوں کی طرح گند سے اور نا پاک اعتراضات کر کے اپنی فتح کا نقارہ بجانا چاہتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذکروا موشکم بالخیر کہ اپنے وفات یافتہ لوگوں کا بھلائی سے ذکر کیا کرو۔مگر افسوس ہے کہ مخالفت کے اندھے جوش میں فاروقی صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس زریں ہدایت کو پس پشت ڈالتے ہوئے اُس بزرگ ہستی کے فرزند ارجمند کے خلاف ، اُن کے وفات پا جانے کے بعد، نا پاک نجس اور گندے حملے کیے ہیں میں بزرگ ہستی کو وہ اپنا آقاد مولیٰ اور ساری امت محمدیہ کے لیے مسیح موعود اور مہدی معہود تسلیم کرتے ہیں۔