غلبہء حق — Page 121
۱۲۱ کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی مصلحت نہیں چاہتی تھی کہ آپ اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان کریں دھوکا بازی اور کم عقلی قرار نہیں پاتی بلکہ حضرت آقادری کی سادگی اور عدم بناوٹ پر گواہ ہے بالکل اسی طرح عقیدہ نبوت میں تبدیلی بھی دھوکہ بازی یا کم عقلی قرار نہیں پا سکتی بلکہ ایک وقت تک نبی کی تا دیل محدث کرنا بھی آپ کی سادگی اور عدم بنادٹ پر ہی دلیل ہے۔حضور نے تو صاف فرما دیا ہے کہ :۔میں تو خدا کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا نہیں رہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے (حقیقة الوحی منشا) حضور کی یہ عبارت فضیلت برسیح علیہ السلام کے عقیدہ میں تبدیلی کے متعلق ہے جس کا موجب بارش کی طرح وحی الٹی میں نبی کا خطاب پانا قرار دیا گیا ہے۔ہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بارہ سال تک اپنا مسیح موعود ہونا نہ سمجھنے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے :- " یہ خدا کی حکمت عملی تھی اور میری سچائی پر یہ دلیل تھی اور میری سادگی اور عدم بناوٹ پر ایک نشان تھا یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور انسانی منصوبہ اس کی جڑ ہوتی تو میں براہین احمدیہ کے وقت سے ہی