فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 72

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 72 (۹۰) فاتحہ خلف الامام پڑھنے کے محال ایک روز میں (حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی۔ناقل ) نے دریافت کیا کہ الحمد کس موقعہ پر پڑھنی چاہئے۔فرمایا:۔"جہاں موقعہ پڑھنے کا لگ جاوے۔" میں نے عرض کیا کہ امام کے سکوت میں؟ فرمایا:۔" جہاں موقعہ ہو، پڑھنا ضرور چاہئیے۔" ( تذکرہ المہدی مؤلفہ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمائی صفحہ 180 جدید ایڈیشن) (۹۱) رکوع میں ملنے والے کی رکعت ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر جماعت ہو رہی ہے اور مقتدی کو رکوع میں ملنے کا موقعہ ملا۔اب اس نے الحمد نہیں پڑھی۔وہ رکعت اس کی ہو جاوے گی ؟ مولوی عبد الکریم صاحب بولے کہ وہ رکعت اس کی نہیں ہوگی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ رکعت اس کی ہوگئی۔نہیں کیسے ہوگی۔بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ اگر اس کو موقعہ ملتا کہ وہ الحمد پڑھ لیتا تو کیا وہ الحمد نہ پڑھتا؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ پڑھتا کیوں نہیں ، اس کا اعتقاد تو یہی ہے کہ الحمد پڑھ لوں۔فرمایا نیت کے ساتھ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ دارو مدار ہے۔اس کو اتنی مہلت نہیں ملی ، دل میں تو اس کا اعتقاد ہے۔وہ رکعت اس کی ضرور ہوگئی۔تذکرہ المہدی مؤلفه حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی صفحہ 180، 181 جدید ایڈیشن) {(۹۲) سورہ مزمل وغیرہ کا وظیفہ } ایک شخص نے جو سورہ مزمل کا وظیفہ کیا کرتا تھا اور اب اس کو آواز میں وغیرہ سنائی دیتی ہیں۔اپنی ان مشکلات کو عرض کیا۔فرمایا۔اب اس شغل کو چھوڑ دو۔شریعت نے رہبانیت کو اس لئے منع کیا ہے کہ اس سے دماغ پرا گندہ ہو جاتا ہے۔انبیاء علیہم السلام اس سے مستفی ہوتے ہیں۔