فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 45

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 45 ایک باغ کی ہے کہ ایک مقام سے انسان کسی قسم کا پھول چنتا ہے پھر آگے چل کر اور قسم کا پھول چنتا ہے پس چاہئے کہ ہر ایک مقام کے مناسب حال فائدہ اُٹھاوے۔اپنی طرف سے الحاق کی کیا ضرورت ہے ورنہ پھر سوال ہو گا کہ تم نے ایک نئی بات کیوں بڑھائی۔خدا کے سوا اور کس کی طاقت ہے کہ کہے کہ فلاں راہ سے اگر سورہ یسین پڑھو گے تو برکت ہوگی۔ورنہ نہیں۔قرآن شریف سے اعراض کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ایک صوری اور ایک معنوی۔صوری یہ کہ کبھی کلام الہی کو پڑھا ہی نہ جاوے۔جیسے اکثر لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر وہ قرآن شریف کی عبارت تک سے بالکل غافل ہیں۔اور ایک معنوی کہ تلاوت تو کرتا ہے مگر اس کے برکات وانوار و رحمت الہی پر ایمان نہیں ہوتا۔پس دونوں اعراضوں میں سے کوئی اعراض ہو اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔امام جعفر" کا قول ہے واللہ اعلم کہاں تک صحیح ہے کہ میں اس قدر کلام الہی پڑھتا ہوں کہ ساتھ ہی الہام شروع ہو جاتا ہے مگر بات معقول معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک جنس کی شے دوسری شے کو اپنی طرف کشش کرتی ہے۔اب اس زمانہ میں لوگوں نے صد ہا حاشیے چڑھائے ہوئے ہیں۔شیعوں نے الگ سنیوں نے الگ۔ایک دفعہ ایک شیعہ نے میرے والد صاحب سے کہا کہ میں ایک فقرہ بتلاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو تو پھر طہارت اور وضو وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اسلام میں کفر بدعت زندقہ الحاد و غیرہ اسی طرح آئے ہیں کہ ایک شخص واحد کے کلام کو اس قدر عظمت دی گئی جس قدر کلام الہی کو عظمت دی جانی چاہئے تھی۔صحابہ کرام اسی لئے احادیث کو قرآن سے کم درجہ پر مانتے تھے۔ایک دفعہ حضرت عمر فیصلہ کرنے لگے تو ایک بڑھیا عورت نے کہا کہ حدیث میں یہ آیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ میں ایک بڑھیا کیلئے کتاب اللہ کو ترک نہیں کر سکتا۔اگر ایسی باتوں کو جن کے ساتھ وحی کی کوئی مدد نہیں وہی عظمت دی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسیح کی حیات کی نسبت جو اقوال ہیں ان کو بھی صحیح مان لیا جاوے حالانکہ وہ قرآن شریف کے بالکل مخالف ہیں۔" الحکم نمبر 4 جلد 8 مؤرخہ 31 جنوری 1904ء صفحہ 3,2)