فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 188

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 188 ہے۔کیا یہ اچھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرح اس عورت کو طلاق دیدے یا یہ کہ ایک دیوث بن کر اس آشنا پر راضی رہے۔یا مثلاً ایک عورت علاوہ بدکار ہونے کے خاوند کے قتل کرنے کے فکر میں ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ اس کا خاوند ایک مدت تک اس کی بدکاری کو دیکھتا رہے اور اس پر خوش رہے اور آخر اس فاسقہ کے ہاتھ سے قتل ہو۔غرض یہ مثال نہایت درست ہے کہ گندی عورت گندے عضو کی طرح ہے اور اس کا کاٹ کر پھینکنا اسی قانون کی رو سے ضروری پڑا ہوا ہے جس قانون کی رو سے ایسے ایسے عضو کاٹے جاتے ہیں اور چونکہ ایسی عورتوں کو اپنے پاس سے دفع کرنا واقعی طور پر ایک پسندیدہ بات اور انسانی غیرت کے مطابق ہے۔اس لئے کوئی مسلمان اس کا رروائی کو چھپے چھپے ہر گز نہیں کرتا۔مگر نیوگ چھپ کر کیا جاتا ہے کیونکہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ بُرا کام ہے۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 39 تا 41 مطبوعہ نومبر 1984ء) " پس نیوگ میں اور طلاق میں یہ فرق ہے کہ نیوگ میں تو ایک بے غیرت انسان اپنی پاکدامن اور بے لوث اور منکوحہ عورت کو دوسرے سے ہمبستر کرا کر دیوث کہلاتا ہے اور طلاق کی ضرورت کے وقت ایک باغیرت مرد ایک نا پاک طبع عورت سے قطع تعلق کر کے دیوٹی کے الزام سے اپنے تئیں بری کر لیتا ہے۔" فرمایا:۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 30 مطبوعہ نومبر 1984 ء) آریہ لوگ جب اُس اعتراض کے وقت جو نیوگ پر وارد ہوتا ہے بالکل لا جواب اور عاجز ہو جاتے ہیں تو پھر انصاف اور خدا ترسی کی قوت سے کام نہیں لیتے بلکہ اسلام کے مقابل پر نہایت مکروہ اور بیجا افتراؤں پر آ جاتے ہیں۔چنانچہ بعض تو مسئلہ طلاق کو ہی پیش کرتے ہیں۔حالانکہ خوب جانتے ہیں کہ قدرتی طور پر ایسی آفات ہر یک قوم کیلئے ہمیشہ ممکن الظہو ر ہیں جن سے بچنا بجز طلاق کے متصور نہیں۔مثلاً اگر کوئی عورت زانیہ ہو تو کس طرح اس کے خاوند کی غیرت اس کو اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی کہلا کر پھر دن رات زنا کاری کی حالت میں مشغول رہے۔ایسا ہی اگر کسی کی جورو