پہلا احمدی مسلمان سائنسدان عبدالسلام — Page 13
نڈل کے بعد وہ گورنمنٹ انٹر کالج جھنگ میں داخل ہوئے اور سائنس اور ریاضی کے مضمون رکھے۔ان کی قابلیت کی وجہ سے انہیں کلاس کی لائبریری کا انچارج بنادیا گیا جہاں انہوں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ان کا مقابلہ کچھ غیر مسلم طالب علموں سے رہتا تھا لیکن سلام نے کبھی انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا۔ان کے والدان کی تعلیمی کا رکردگی کا جائزہ لیتے رہتے۔1940ء میں سلام نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی میں نہ صرف اوّل آئے بلکہ ایک نیار یکارڈ قائم کیا۔اس وقت ان کی عمر صرف چودہ برس کی تھی۔گورنمنٹ کی طرف سے سلام کو ہمیں روپے وظیفہ ملا اور کالج کی طرف سے انہیں خالص سونے کا میڈل دیا گیا۔میٹرک کا نتیجہ نکلنے سے پہلے سلام کے والد صاحب کو خواب میں شربت پلا یا گیا جس کی تعبیر سلام کی اعلیٰ کامیابی کی شکل میں ظاہر ہوئی۔بچپن میں سلام نہ صرف پڑھائی میں لائق تھے بلکہ اور بھی بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔چھوٹی عمر سے ہی نمازوں کے پابند تھے اور وقت بالکل ضائع نہیں کرتے تھے۔گالی گلوچ سے پر ہیز کرتے تھے اور اپنے ماں باپ، استادوں اور سب بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے۔ان کی ایک بہن محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ ان کے بچپن کے بارے میں بیان کرتی ہیں :۔” بھائی جان کو کبھی اونچی آواز میں بات کرتے یا کسی سے گالی گلوچ کرتے نہیں دیکھا۔والدین اور بزرگوں کا بے حد احترام کرتے۔ابا جان کے ایک لا ولد چچا تھے۔بھائی جان نے ان سے بہت دعائیں لیں۔بھائی جان کا پسندیدہ کام یہ تھا کہ جمعہ کے دن مسجد احمد یہ میں صفائی کرنی اور ہمیشہ مغرب سے پہلے مسجد جا کر اذان دینی۔13