فقہ المسیح — Page 8
فقه المسيح 8 فقہ احمدیہ کے مآخذ ہے۔پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 15) آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے۔کہ ایک ملہم شخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الہی موضوع ٹھہراسکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الہی صحیح ٹھہرا سکتا ہے۔اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے ؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ ظنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف ظلنی طور پر صحیح ہیں نہ یقینی طور پرتو پر یقینی طور پران کا صیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں! الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 15) مذاہب اربعہ کا اختلاف احادیث کی بنیاد پر ہی ہے میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں فنی طور پر صیح ہیں۔مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہو جائے گی۔آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلا شبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں مذہبوں کے اماموں نے اپنے عملی طریق سے خود گواہی دے دی ہے کہ یہ