فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 611

فقہ المسیح — Page 6

فقه المسيح 6 فقہ احمدیہ کے مآخذ تاویل کرنے پر قادر نہیں ہوسکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَ آيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (الجاليه: 7) یعنی تم بعد اللہ اور اس کی آیات کے کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔اس آیت میں صریح اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر قرآن کریم کسی امر کی نسبت قطعی اور یقینی فیصلہ دیوے یہاں تک کہ اس فیصلہ میں کسی طور سے شک باقی نہ رہ جاوے اور منشاء اچھی طرح سے کھل جائے تو پھر بعد اس کے کسی ایسی حدیث پر ایمان لانا جو صریح اس کے مخالف پڑی ہو مومن کا کام نہیں ہے۔پھر فرماتا ہے۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (الاعراف: 186 ) ان دونوں آیتوں کے ایک ہی معنی ہیں اس لئے اس جگہ تصریح کی ضرورت نہیں۔سو آیات متذکرہ بالا کے رو سے ہر ایک مومن کا یہ ہی مذہب ہونا چاہئے کہ وہ کتاب اللہ کو بلا شرط اور حدیث کو شرعی طور پر حجت شرعی قرار دیوے اور یہی میرا مذ ہب ہے۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 12،11) قولی فعلی اور تقریری احادیث کے لئے بھی محک قرآن کریم ہے جوا مرقول یا فعل یا تقریر کے طور پر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ہم اس امر کو بھی اسی محک سے آزمائیں گے اور دیکھیں گے که حسب آیہ شریفہ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ وہ حدیث قولی یا فعلی قرآن کریم کی کسی صریح اور بین آیت سے مخالف تو نہیں۔اگر مخالف نہیں ہوگی تو ہم بسر و چشم اس کو قبول کریں گے اور اگر بظاہر مخالف نظر آئے گی تو ہم حتی الوسع اس کی تطبیق اور توفیق کیلئے کوشش کریں گے اور اگر ہم باوجود پوری پوری کوشش کے اس امر تطبیق میں ناکام رہیں گے اور صاف صاف کھلے طور پر ہمیں مخالف معلوم ہوگی تو ہم افسوس کے ساتھ اس حدیث کو ترک کر دیں گے۔کیونکہ