فقہ المسیح — Page 500
فقه المسيح 500 متفرق مجھے یہ بات یاد آئی کہ وہ تو دراصل اسی وقت سے کٹ چکا تھا۔ایک پیر کے بعد دوسرے کی بیعت کرنا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 72،71) ایک شخص نے عرض کی کہ اگر ایک شخص کسی پیر کا پہلے سے مُرید ہے تو کیا جائز ہے کہ وہ بعد اس کے کسی اور پیر کی بیعت کرے۔فرمایا "اگر پہلی بیعت کسی اچھے آدمی کی نہ تھی تو وہ خود ہی قابل فسخ تھی اور اگر اچھے آدمی کی تھی تو دوسری بیعت نور علی نور ہے۔ایک چراغ کے ساتھ دوسرا چراغ جلانے سے روشنی بڑھتی ہے۔سید عبدالقادر جیلانی نے کئی متفرق جگہ بیعتیں کی تھیں۔“ 66 ( ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 232 ،233) حضرت مسیح موعود کو خدا کی طرف سے بیعت لینے کا حکم سوال ہوا۔کیا آپ دوسرے صوفیاء اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔فرمایا: ہم تو امر الہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُنَا بِعُونَ اللَّهَ “ بیعت کا طریق (الحکم 24 مئی 1901ء صفحہ 8) حضرت مفتی محمد صادق صاحب اپنی بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: قیام قادیان کے دوران ) دوسرے یا تیسرے دن میں نے حافظ حامد علی صاحب سے کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت صاحب مجھے ایک علیحدہ مکان میں لے گئے۔جس حصہ زمین پر نواب محمد علی خاں صاحب کا شہر والا مکان ہے۔اور جس کے نیچے کے حصہ میں مرکزی