فقہ المسیح — Page 477
فقه المسيح 477 متفرق ایک خواب کی بنیاد پر کیا جانے والا وظیفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ پیر سراج الحق نعمانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب آتھم کی پیش گوئی کی میعاد قریب آئی تو اہلیہ صاحبہ مولوی نورالدین صاحب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہتا ہے کہ ایک ہزار ماش کے دانے لے کر ان پر ایک ہزار دفعہ سورہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ پڑھنی چاہئے اور پھر ان کو کسی کنوئیں میں ڈال دیا جاوے اور پھر واپس منہ پھیر کر نہ دیکھا جاوے۔یہ خواب حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔اس وقت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی موجود تھے اور عصر کا وقت تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ اس خواب کو ظاہر میں پورا کر دینا چاہیے کیونکہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی خواب خود آپ یا احباب میں سے کوئی دیکھتے تو آپ اسے ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی سعی فرماتے تھے۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی اسی خیال سے حضرت نے ایسا فرمایا۔اس پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے میر ا اور میاں عبداللہ صاحب سنوری کا نام لیا اور حضرت نے پسند فرمایا اور ہم دونوں کو ماش کے دانوں پر ایک ہزار دفعه سوره المُ تَرَ كَيْف پڑھنے کا حکم دیا۔چنانچہ ہم نے عشاء کی نماز کے بعد سے شروع کر کے رات کے دو بجے تک یہ وظیفہ ختم کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حصہ اول میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کی زبانی بھی درج ہو چکی ہے۔اور مجھے میاں عبداللہ صاحب والی روایت سن کر تعجب ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فعل کس حکمت کے ماتحت کیا ہے کیونکہ اس قسم کی کارروائی بظا ہر آپ کے طریق عمل کے خلاف ہے لیکن اب پیر صاحب کی روایت سے یہ عقدہ حل ہو گیا ہے کہ آپ کا یہ فعل در اصل ایک خواب کی بنا پر تھا جسے آپ نے ظاہری صورت میں بھی پورا فرما دیا کیونکہ آپ کی یہ عادت تھی کہ حتی الوسع خوابوں کو ان کی ظاہری شکل میں بھی پورا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔بشرطیکہ ان کی ظاہری صورت شریعت اسلامی کے کسی حکم کے