فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 611

فقہ المسیح — Page 385

فقه المسيح 385 بدعات اور بد رسومات نیک عورت کی ہم صحبت ہو۔(6) عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لئے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جلشانہ نے اپنی حکمت کا ملہ سے جس کے صد با مصالح ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔پھر جو شخص اللہ رسول کے حکم کے مطابق نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جائے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتی ہیں۔نہایت مردود شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کیلئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔(7) بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔پس اگر پہلی موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔سو یا درکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں سوان کو بھی خدا تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔(8) ہماری قوم میں یہ بھی ایک نہایت بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولٹر کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سرا سر تکبر نخوت کا طریق ہے جو سراسر احکامِ شریعت کے برخلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔رشتہ ناطہ میں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے کہ وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت