فقہ المسیح — Page 347
فقه المسيح 347 حکومت کی اطاعت واجب القتل ہو اور تمہیں قتل کرنا اور تمہارا مال لوٹ لینا اور تمہاری بیویوں پر جبر کر کے اپنے نکاح میں لے آنا اور تمہاری میت کی توہین کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دینا نہ صرف جائز بلکہ بڑے ثواب کا کام ہے۔سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔سو انگریزی سلطنت تمہارے لیے ایک رحمت ہے۔تمہارے لیے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سیر ہے۔پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں ہزار ہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔کچھ بہت دن نہیں گذرے کہ ایک پادری نے کپتان ڈگلس کی عدالت میں میرے پر اقدام قتل کا مقدمہ کیا تھا۔اس دانشمند اور منصف مزاج ڈپٹی کمشنر نے معلوم کر لیا کہ وہ مقدمہ سراسر جھوٹا اور بناوٹی ہے اس لیے مجھے عزت کے ساتھ بری کیا بلکہ مجھے اجازت دی کہ اگر چاہو تو جھوٹا مقدمہ بنانے والوں پر سزا دلانے کے لیے نالش کر و۔سواس نمونہ سے ظاہر ہے کہ انگریز کس انصاف اور عدل کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں۔اور یا درکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں ہے۔جس دین کی تعلیم عمدہ ہے جس دین کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا نے معجزات دکھلائے ہیں اور دکھلا رہا ہے ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ظالم لوگ اسلام پر تلوار کے ساتھ حملے کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے نابود کر دیں۔سوجنہوں نے تلوار میں اُٹھا ئیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے گئے۔سو وہ جنگ صرف دفاعی جنگ تھی۔اب خواہ نخواہ ایسے اعتقاد پھیلا نا کہ کوئی مہدی خونی