فقہ المسیح — Page 339
فقه المسيح 339 حکومت کی اطاعت کچل ڈالے۔لکھا ہے کہ حضرت علی ایک کافر سے لڑے۔حضرت علی نے اُس کو نیچے گرا لیا اور اس کا پیٹ چاک کرنے کو تھے کہ اس نے حضرت علی پر تھو کا۔حضرت علی یہ دیکھ کر اس کے سینے پر سے اُتر آئے۔وہ کافر حیران ہوا اور پوچھا کہ اے علی ! یہ کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میرا جنگ تیرے ساتھ خدا کے واسطے تھا لیکن جب تو نے میرے منہ پر تھوکا، تو میرے نفس کا بھی کچھ حصہ مل گیا۔اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا۔حضرت علی کے اس فعل کا اس پر بہت بڑا اثر ہوا۔میں جب کبھی ان لوگوں کی بابت ایسی خبریں سنتا ہوں تو مجھے سخت رنج ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم سے بہت دور جا پڑے ہیں اور بے گناہ انسانوں کا قتل ثواب کا موجب سمجھتے ہیں۔بعض مولوی مجھے اس لیے دجال کہتے ہیں کہ میں انگریزوں کے ساتھ محار بہ جائز نہیں رکھتا مگر مجھے سخت افسوس ہے کہ یہ لوگ مولوی کہلا کر اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔کوئی ان سے پوچھے کہ انگریزوں نے تمہارے ساتھ کیا برائی کی ہے۔اور کیا دُ کھ دیا ہے۔شرم کی بات ہے کہ وہ قوم جس کے آنے سے ہم کو ہر قسم کی راحت اور آرام ملا۔جس نے آکر ہم کو سکھوں کے خونخوار پنجہ سے نجات دی اور ہمارے مذہب کی اشاعت کے لیے ہر قسم کے مواقع اور سہولتیں دیں۔اُن کے احسان کا یہ شکر ہے کہ بے گناہ انگریزی افسروں کو قتل کر دیا جائے؟ میں تو صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو خون ناحق سے نہیں ڈرتے اور محسن کے حقوق ادا نہیں کرتے۔وہ خدا تعالیٰ کے حضور سخت جوابدہ ہیں۔ان مولویوں کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع کریں اور نا واقف اور جاہل لوگوں کو فہمائش کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ وہ امن اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے عطیات سے ممنون منت اور مرهون احسان ہیں اور یہ مبارک سلطنت نیکی اور ہدایت پھیلانے میں کامل مددگار ہے۔پس اس کے خلاف محاربہ کے خیالات رکھنے سخت بغاوت ہے اور یہ قطعی حرام ہے۔وہ اپنے قلم اور زبان سے جاہلوں کو سمجھائیں اور اپنے دین کو بدنام کر کے دنیا کو ناحق کا ضرر نہ پہنچائیں۔ہم تو