فقہ المسیح — Page 269
فقه المسيح 269 نکاح مرحوم و مغفور پر حضرت اقدس کی خاص شفقت کا نتیجہ تھا۔(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 126،125) بیوگان کا نکاح کر لینا بہتر ہے عورتوں کو خصوصی نصائح کرتے ہوئے فرمایا:۔اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو۔دوسرا خاوند کرنا ایسا برا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھا را گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ یا را نڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں برے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کر لے اور نابکا رعورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے۔ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں۔جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو اللہ اور رسول پیارا ہے، اس کو چاہیے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یاد رکھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔(الحکم 10 جولائی 1902 ء صفحہ 7) ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کن صورتوں میں فرض ہے۔اس کے نکاح کے وقت عمر، اولاد، موجودہ اسباب ، نان و نفقہ کا لحاظ رکھنا چاہیے یا کہ نہیں؟ یعنی کیا بیوہ باوجود عمر زیادہ ہونے کے یا اولاد بہت ہونے کے یا کافی دولت پاس ہونے کے ہر حالت میں مجبور ہے کہ اس کا نکاح کیا جائے؟ فرمایا:۔بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔چونکہ بعض قو میں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے۔اس واسطے