فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 611

فقہ المسیح — Page 266

فقه المسيح 266 نکاح بزہد و ورع کوش وصدق وصفا ولیکن میفز ائے ہر مصطفیٰ یہ ایسی باتیں ہیں کہ انسان ان میں خود فتویٰ لے سکتا ہے جو امر تقویٰ اور خدا کی رضا کے خلاف ہے، مخلوق کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے وہ منع ہے۔اور پھر جو اسراف کرتا ہے، وہ سخت گناہ کرتا ہے۔اگر ریا کاری کرتا ہے، تو گناہ ہے۔غرض کوئی ایسا امر جس میں اسراف، ریا فستق ، ایذائے خلق کا شائبہ ہو وہ منع ہے اور جو اُن سے صاف ہو وہ منع نہیں ، گناہ نہیں۔(الحلم 17 اکتوبر 1902 ، صفحہ 8) کیونکہ اصل اشیاء کی حلت ہے۔نکاح پر با جا اور آتش بازی نکاح پر با جا بجانے اور آتش بازی چلانے کے متعلق سوال ہوا فر مایا کہ:۔ہمارے دین کی بنا ئیسر پر ہے عسر پر نہیں اور پھر اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ضروری چیز ہے باجوں کا وجود آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں نہ تھا۔اعلان نکاح جس میں فسق و فجور نہ ہو۔جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں ضروری شے ہے کیونکہ اکثر دفعہ نکاحوں کے متعلق مقدمات تک نوبت پہنچتی ہے پھر وراثت پر اثر پڑتا ہے۔اس لیے اعلان کرنا ضروری ہے مگر اس میں کوئی ایسا امر نہ ہو جو فسق و فجور کا موجب ہو۔رنڈی کا تماشا یا آتش بازی فسق و فجور اور اسراف ہے یہ جائز نہیں۔باجے کے ساتھ اعلان پر پوچھا گیا کہ جب برات لڑکے والوں کے گھر سے چلتی ہے کیا اسی وقت سے باجا بجتا جاوے یا نکاح کے بعد؟ فرمایا: ایسے سوالات اور جز و در جزو نکالنا بے فائدہ ہے۔اپنی نیت کو دیکھو کہ کیا ہے اگر اپنی شان و شوکت دکھانا مقصود ہے تو فضول ہے اور اگر یہ غرض ہے کہ نکاح کا صرف اعلان ہو تو اگر گھر سے بھی با جا بجتا جاوے تو کچھ حرج نہیں ہے۔اسلامی جنگوں میں بھی تو با جابجتا ہے وہ بھی ایک اعلان ہی ہوتا ہے۔(الحکم 24 اپریل 1903 صفحہ 10)