فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 611

فقہ المسیح — Page 252

فقه المسيح 252 نکاح تسلیم کرتے ہیں جس کے لئے اکثر انسان تعدد ازدواج کے لئے مجبور ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کے لئے یہ ضروری امر ہے کہ اپنی نسل باقی رہنے کے لئے کوئی احسن طریق اختیار کرے اور لا ولد رہنے سے اپنے تئیں بچاوے اور یہ ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی سے اولاد نہیں ہوتی اور یا ہوتی ہے اور باعث لاحق ہونے کسی بیماری کے مر مر جاتی ہے اور یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں مرد کو دوسری بیوی کی نکاح کے لئے ضرورت پیش آتی ہے۔خاص کر ایسے مرد جن کی نسل کا مفقود ہونا قابل افسوس ہوتا ہے اور اُن کی ملکیت اور ریاست کو بہت حرج اور نقصان پہنچتا ہے۔ایسا ہی اور بہت سے وجوہ تعدد نکاح کے لئے پیش آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔قرآن شریف میں انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تعدد ازدواج کو روا رکھا ہے اور من جملہ ان ضرورتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تا بعض صورتوں میں تعد دا زدواج نسل قائم رہنے کا موجب ہو جائے کیونکہ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اسی طرح نسل سے بھی تو میں بنتی ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کثرت نسل کے لئے نہایت عمدہ طریق تعد دازدواج ہے۔پس وہ برکت جس کا دوسرے لفظوں میں نام کثرتِ نسل ہے اس کا بڑا بھاری ذریعہ تعدد ازدواج ہی ہے۔۔۔۔۔ہندوؤں کے وہ بزرگ جو اوتار کہلاتے تھے ان کا تعد دازدواج بھی ثابت ہے۔چنانچہ کرشن جی کی ہزاروں بیویاں بیان کی جاتی ہیں اور اگر ہم اس بیان کو مبالغہ خیال کریں تو اس میں شک نہیں کہ دس ہیں تو ضرور ہوں گی۔راجہ رام چندر کے باپ کی بھی دو بیویاں تھیں اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے وید میں کہیں تعدد ازدواج کی ممانعت نہیں پائی جاتی ورنہ یہ بزرگ لوگ ایسا کام کیوں کرتے جو وید کے برخلاف تھا۔ایسا ہی باوانانک صاحب جو ہندو قوم میں ایک بڑے مقدس آدمی شمار کئے گئے ہیں ان کی بھی دو بیویاں تھیں۔اس جگہ مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازدواج میں یہ ظلم ہے کہ