فقہ المسیح — Page 225
فقه المسيح 225 زكوة سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں یہاں قادیان میں بیمار ہوگئی اور دو جانور صدقہ کئے اور حضور کی خدمت میں عرض کی کہ کیا صدقہ کا گوشت لنگر خانہ میں بھیجا جاوے۔حضور نے فرمایا کہ یہ غرباء کا حق ہے۔غرباء کو تقسیم کیا جاوے۔چنانچہ فرہا، کوتقسیم کیا گیا۔سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 191) صدقہ کی جنس خود ہی خرید لینا جائز ہے ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں مرغیاں رکھتا ہوں اور ان کا دسواں حصہ خدا تعالیٰ کے نام پر دیتا ہوں اور گھر سے روزانہ تھوڑا تھوڑا آٹا صدقہ کے واسطے الگ کیا جاتا ہے کیا یہ جائز ہے کہ وہ چوزے اور وہ آٹا خود ہی خرید کر لوں اور اس کی قیمت مد متعلقہ میں بھیج دوں؟ فرمایا: ایسا کرنا جائز ہے۔“ نوٹ : لیکن اس میں یہ خیال کر لینا چاہئے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔اگر کوئی شخص ایسی اشیاء کو اس واسطے خود ہی خرید کرے گا کہ چونکہ خرید وفروخت ہر دو اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔جیسی تھوڑی قیمت سے چاہے خرید لے۔تو یہ اس کے واسطے گناہ ہوگا۔( بدر 24 اکتوبر 1907 صفحہ 3) حضرت مسیح موعود کا اپنی اولاد کے لئے صدقہ ناجائز قرار دینا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے صدقہ ناجائز خیال فرماتے تھے۔(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 619)