فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 611

فقہ المسیح — Page 214

فقه المسيح 214 روزہ اور رمضان والوں کو بھی اس پر اعتراض نہ کرنا چاہیے کہ یہ سارے روزے کیوں نہیں رکھتا۔کیونکہ اگر بچہ اس عمر میں سارے روزے رکھے گا تو آئندہ نہیں رکھ سکے گا۔اسی طرح بعض بچے خلقی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنے بچوں کو میرے پاس ملاقات کے لئے لاتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ اس کی عمر پندرہ سال ہے حالانکہ وہ دیکھنے میں سات آٹھ سال کے معلوم ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں ایسے بچے روزہ کے لئے شاید اکیس سال کی عمر میں بالغ ہوں۔اس کے مقابلہ میں ایک مضبوط بچہ غالبا پندرہ سال کی عمر میں ہی اٹھارہ سال کے برابر ہوسکتا ہے۔لیکن اگر وہ میرے اِن الفاظ ہی کو پکڑ کر بیٹھ جائے کہ روزہ کی بلوغت کی عمر اٹھارہ سال ہے تو نہ وہ مجھ پر ظلم کرے گا اور نہ خدا تعالیٰ پر بلکہ اپنی جان پر آپ ظلم کرے گا۔اسی طرح اگر کوئی چھوٹی عمر کا بچہ پورے روزے نہ رکھے اور لوگ اُس پر طعن کریں تو وہ اپنی جان پر ظلم کریں گے۔کم عمری میں روزہ رکھنے کی ممانعت ė ( تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 385 ) حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:۔قبل بلوغت کم عمری میں آپ روزہ رکھوانا پسند نہیں کرتے تھے۔بس ایک آدھ رکھ لیا کافی ہے۔حضرت اماں جان نے میرا پہلا روزہ رکھوایا تو بڑی دعوت افطار دی تھی۔یعنی جو خواتین جماعت تھیں سب کو بلایا تھا۔اس رمضان کے بعد دوسرے یا تیسرے رمضان میں میں نے روزہ رکھ لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا کہ آج میرا روزہ پھر ہے۔آپ حجرہ میں تشریف رکھتے تھے۔پاس سٹول پر دو پان لگے رکھے تھے۔غالبا حضرت اماں جان بنا کر رکھ گئی ہوں گی۔آپ نے ایک پان اُٹھا کر مجھے دیا کہ لو یہ پان کھا لو تم کمزور ہو، ابھی روزہ نہیں رکھنا۔توڑ ڈالو روزہ۔میں نے پان تو کھا لیا مگر آپ سے کہا کہ صالحہ ( یعنی ممانی جان مرحومہ چھوٹے ماموں جان کی اہلیہ محترمہ ) نے بھی رکھا ہے۔اُن کا بھی تڑوا دیں۔فرمایا بلا ؤ اس کو ابھی۔میں بُلا لائی۔وہ آئیں تو اُن کو بھی دوسرا پان اُٹھا کر دیا اور فرمایا لو یہ کھالو۔تمہارا روزہ نہیں ہے۔میری عمر دس سال کی ہوگی غالبا۔تحریرات مبارکہ صفحہ 227 ، 228)