فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 611

فقہ المسیح — Page 206

فقه المسيح 206 روزہ اور رمضان روایت ہے کہ یہاں ایک صاحب آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ مجھے یہاں ٹھہرنا ہے۔اس دوران میں ہمیں روزے رکھوں یا نہ رکھوں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہاں آپ روزے رکھ سکتے ہیں کیونکہ قادیان احمدیوں کے لئے وطن ثانی ہے۔گو مولوی عبداللہ صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے مقرب تھے مگر میں نے صرف ان کی روایت کو قبول نہ کیا اور لوگوں کی اس بارے میں شہادت لی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان کی رہائش کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت دیتے تھے۔البتہ آنے اور جانے کے دن روزہ رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔اس وجہ سے مجھے پہلا خیال بدلنا پڑا۔پھر جب اس دفعہ رمضان میں سالانہ جلسہ آنے والا تھا اور سوال اُٹھا کہ آنے والوں کو روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں تو ایک صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب جلسہ رمضان میں آیا تو ہم نے خود مہمانوں کو سحری کھلائی تھی۔ان حالات میں جب میں نے یہاں جلسہ پر آنے والوں کو روزہ رکھنے کی اجازت دی تو یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی فتویٰ ہے۔پہلے علماء تو سفر میں روزہ رکھنا بھی جائز قرار دیتے رہے ہیں اور آج کل کے سفر کو تو غیر احمدی مولوی سفر ہی نہیں قرار دیتے لیکن حضرت مسیح موعود نے سفر میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔پھر آپ نے ہی یہ بھی فرمایا کہ یہاں قادیان میں آکر روزہ رکھنا جائز ہے۔اب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم آپ کا ایک فتویٰ تو لے لیں اور دوسرا چھوڑ دیں۔( الفضل 4/جنوری 1934 ءصفحہ 3-4) اس مسئلہ پر سیرت المہدی سے بھی ایک روایت ملتی ہے ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ 1903 ء کا ذکر ہے کہ میں اور ڈاکٹر صاحب مرحوم رڑکی سے آئے۔چار دن کی رخصت تھی۔حضور نے پوچھا: