فقہ المسیح — Page 124
فقه المسيح 124 نمازیں جمع کرنا نہیں جاتے۔یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کی کہ آنے والا شخص نماز جمع کیا کرے گا۔سو چھ مہینہ تک تو باہر جمع کروا تا رہا ہوں۔اب میں نے کہا کہ عورتوں میں بھی اس پیشگوئی کو پورا کر دینا چاہئے چونکہ بغیر ضرورت کے نماز جمع کرنا نا جائز ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھ کو بیمار کر دیا اور اس طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کر دیا۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرے۔کیونکہ وہ پورا نہ ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔اس لئے ہر ایک کو وہ بات جو اس کے اختیار میں ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کے موافق پوری کر دینی چاہئے اور خدا تعالیٰ خود بھی سامان مہیا کر دیتا ہے جیسا کہ مجھ کو بیمار کردیا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کر دے۔جیسا کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہوگا جبکہ تیرے ہاتھ میں کسری کے سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب کسری کا ملک فتح ہوا۔تو حضرت عمرؓ نے اس کو سونے کے کڑے جو ٹوٹ میں آئے تھے پہنائے۔حالانکہ سونے کے کڑے یا کوئی اور چیز سونے کی مردوں کے لئے ایسی ہی حرام ہے جیسا کہ اور حرام چیزیں۔لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ بات نکلی تھی اس لئے پوری کی گئی۔اسی طرح ہر ایک دوسرے انسان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جمع بین الصلو تین مہدی کی علامت ہے (بدر 7 جون 1906 صفحہ 5) سب صاحبوں کو معلوم ہوا ایک مدت سے خدا جانے قریباً چھ ماہ سے یا کم وبیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے جو مسلسل نما ز جمع کی جاتی ہے ایک نو وارد یا نو مرید کو جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے یہ شبہ