فقہ المسیح — Page 89
فقه المسيح 89 متفرق مسائل نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگر اسے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کونسی نماز ہورہی ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔اس صورت میں اس کی عشاء کی نماز ہو جائے گی۔مغرب کی نماز وہ بعد میں پڑھ لے۔یہی صورت عصر کے متعلق ہے۔اس موقع پر عرض کیا گیا ہے کہ عصر کے بعد تو کوئی نماز جائز ہی نہیں۔پھر اگر عدم علم کی صورت میں وہ عصر کی نماز میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ظہر کی نماز اس کے لئے کس طرح جائز ہوسکتی ہے۔حضور نے فرمایا ہے یہ تو صحیح ہے کہ بطور قانون عصر کے بعد کوئی نماز جائز نہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو پھر بھی وہ بعد میں ظہر کی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ایسی صورت میں اس کے لئے ظہر کی نماز عصر کی نماز کے بعد جائز ہوگی۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ مسئلہ سنا ہے اور ایک دفعہ نہیں سنا دو دفعہ سنا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب دوبارہ اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں اس کے متعلق وضاحت کر چکا ہوں کہ ترتیب نما ز ضروری چیز ہے۔لیکن اگر کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ امام کونسی نماز پڑھا رہا ہے عصر کی نماز پڑھا رہا ہے یا عشاء کی نماز پڑھا رہا ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔جو امام کی نماز ہوگی وہی اس کی نماز ہو جائے گی۔بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھ لے۔الفضل 27 جون 1948 صفحہ 3)