فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 611

فقہ المسیح — Page 87

فقه المسيح 87 نماز با جماعت اس کا متولی اور متکفل ہو جاتا ہے۔“ (الحکم 24 ستمبر 1901 صفحہ 6) عجب خان صاحب تحصیلدار نے حضرت اقدس سے استفسار کیا کہ اگر کسی مقام کے لوگ اجنبی ہوں اور ہمیں علم نہ ہو کہ وہ احمدی جماعت میں ہیں یا نہیں تو اُن کے پیچھے نماز پڑھی جاوے کہ نہیں ؟ فرمایا: نا واقف امام سے پوچھ لو۔اگر وہ مصدق ہو تو نماز اس کے پیچھے پڑھی جاوے ور نہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے اس لئے اس کے منشاء کی کیوں مخالفت کی جاوے جن لوگوں سے وہ جُدا کرنا چاہتا ہے بار بار اُن میں گھسنا یہی تو اس کے منشاء کے مخالف ہے۔(البدر 20 فروری 1903 صفحہ 34 ، 35) سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نما ز حضور کے حالات سے واقف نہیں ، تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔فرمایا: پہلے تمہارا فرض ہے کہ اُسے واقف کرو۔پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ، ورنہ اُس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر خاموش رہے نہ تصدیق کرے اور نہ تکذیب ، تو وہ بھی منافق ہے۔اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 299)