فقہ المسیح — Page 62
فقه المسيح 62 وضو بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے۔میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا حکیم صاحب! آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا ہاں حضور۔فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی۔آپ پڑھائیے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو ، نو اقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹونا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 615،614) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا یہ جو حدیث میں مرقوم ہے کہ اگر انسان اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔یہ کیا مسئلہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ شرمگاہ بھی تو جسم ہی کا ایک ٹکڑا ہے۔اس لئے یہ حدیث قوی نہیں معلوم ہوتی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر یہ روایت درست ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول درست نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی ہوئی معلوم نہیں ہوتی اور حدیث میں روایتا کوئی ضعف ہوگا۔واللہ اعلم کپڑے صاف نہ ہونے کا شک (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 320) حضرت منشی برکت علی صاحب شملوی روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود بہت کم نماز پڑھایا کرتے تھے۔نماز اکثر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ