فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 3 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 3

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي يُجيبُكُمُ الله کہ کہ اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تومیری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا۔ایک اور موقع پر فرمایا :- مَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا له رسول جو کچھ تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔معاملات شریعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کا ہی دوسرا نام سنت رسول" ہے جو قرآن کریم پر عمل پیرا ہونے کا طریق متعین کرتی ہے۔اصولِ فقہ میں اسے قرآن کریم کے بعد دوسری حیثیت حاصل ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ کے بعد آپ کے ان ارشادات کا مقام ہے جو روایات کی شکل میں ہم تک پہنچے اور جنہیں حدیث کا اصطلاحی نام دیا گیا۔یہ ارشادات تعلیم کتاب اور بیان حکمت کے مضمون سے تعلق رکھتے ہیں۔اس بارہ میں قرآن کریم میں آپ کی بعثت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے آپ کے متعلق بتایا گیا :- وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے۔پس یہ تعلیم کتاب اور بیان حکمت کا وہ پہلو ہے جو فرمودات نبوئی سے تعلق رکھتا ہے اور فقہی اصطلاح میں اسے ہی حدیث کہا گیا ہے۔خود قرآن کریم کی واضح ہدایت سے پتہ چلتا ہے کہ امور دینیہ میں جو قول بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو اس کی بنیا د لازما وحی الہی میں موجود ہے۔چنانچہ فرمایا۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى هُ إِنْ هُوَ إِلَّا وَى يولى اور وہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ وہ یعنی اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے۔یعنی آپ کا کوئی قول بھی نفسی خواہشات کے تابع نہیں بلکہ ہر بات وحی الہی پر مبنی ہے اس حیثیت له سورة آل عمران آیت ۳۲ له سورة الحشر آیت ۸ ے۔سورة البقره آیت ۱۳۰ که سورة النجم آیت ۵۰۴