فضائل القرآن — Page 174
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ عورت کو کھیتی قرار دینے میں حکمت 174 اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرد و عورت کس اصل پر تعلق رکھیں ؟ یورپ کے بعض فلاسفر ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ تربیت اخلاق کے لئے شادی تو ضروری ہے لیکن تعلقات شہوانی مضر ہیں۔یہ تعلقات نہیں رکھنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی جواب دیا ہے۔فرمایا ہے۔نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَثْى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ لا تمہاری بیویاں تمہارے لئے بطور کھیتی کے ہیں تم جس طرح چاہو ان میں آؤ۔اس پر کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب یہ کہا گیا ہے کہ ہم جس طرح چاہیں کریں تو اچھا ہم تو چاہتے ہیں کہ عورتوں سے تعلق نہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ اس طرح آؤ کہ آگے نسل چلے اور یاد گار قائم رہے۔پس تم اس تعلق کو برا نہ سمجھنا۔اس آیت میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں۔ا۔نر و مادہ کے تعلق کی اجازت دی ہے لیکن ایک لطیف اشارہ سے۔یعنی عورت کو کھیتی کہہ کر بتایا کہ انسانی عمل محدود ہے۔اسے غیر محدود بنانے کے لئے کیا کرنا چاہتے۔یہی کہ نسل چلائی جائے۔پس جس طرح زمین ہو تو اسے کاشتکار نہیں چھوڑتا۔تم کیوں اس ذریعہ کو چھوڑتے ہو جس سے تم پھل حاصل کر سکتے ہو۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہارا پیچ ضائع ہوگا۔۲- دوسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اس قدر تعلق رکھو کہ نہ ان کی طاقت ضائع ہو اور نہ تمہاری۔اگر کھیتی میں بیج زیادہ ڈال دیا جائے تو بیج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھیتی سے پے در پے کام لیا جائے تو کھیتی خراب ہو جاتی ہے۔پس اس میں بتایا کہ یہ کام حد بندی کے اندر ہونا چاہئے۔جس طرح عقلمند کسان سوچ سمجھ کر کھیتی سے کام لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کس حد تک اس میں بیج ڈالنا چاہیئے اور کس حد تک کھیت سے فصل لینی چاہئے اسی طرح تمہیں کرنا چاہئے۔اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہر حالت میں اولاد پیدا کرنا ہی ضروری ہے کسی صورت میں بھی برتھ کنٹرول جائز نہیں وہ غلط کہتے ہیں۔کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معا دوسری بودی جائے تو دوسری فصل اچھی نہیں ہوگی اور تیسری اس سے زیادہ خراب ہوگی۔اسلام نے اولاد پیدا کرنے سے روکا نہیں بلکہ اس کا حکم دیا ہے لیکن ساتھ ہی بتایا ہے کہ کھیتی کے