فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 434

فضائل القرآن — Page 112

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 112 اور صالح بنے کی نفی بھی کرنی پڑے گی۔اور یہ ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ باللہ امت محمدیہ میں اب کوئی صدیق، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا۔لیکن اگر صالحیت، شہادت اور صدیقیت کا مقام حاصل ہو سکتا ہے تو پھر نبوت کا انعام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔لیکن اس پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کریم کا کوئی لفظ حکمت کے بغیر نہیں ہے تو پھر یہاں مع کا لفظ لانے کی کیا ضرورت تھی۔جیسا کہ دوسری جگہ مَعَ الَّذِينَ نہیں رکھا بلکہ صرف یہ فرمایا کہ وہ صدیق اور شہید ہونگے۔اسی طرح یہاں بھی کہا جاسکتا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مع رکھ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اس رسول کی اطاعت کرنے والے صرف صدیق ہی نہیں ہونگے بلکہ سب اُمتوں کے صدیقوں کی خوبیاں ان میں آجائینگی۔صرف شہید ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے سب شہیدوں کی صفات کے جامع ہو نگے۔صرف صالح ہی نہیں ہونگے بلکہ پہلے صالحین کی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتے ہوں گے اسی طرح جو نبی آئے گا وہ پہلے سب نبیوں کی خوبیوں اور کمالات کا بھی جامع ہوگا۔پس مع نے رسول کریم صلی نام کی اطاعت کے نتیجہ کو بڑھا دیا ہے گھٹا یا نہیں۔اور بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ سی کا یہ نام کی اطاعت سے جو مرتبہ حاصل ہوتا ہے وہ پہلے لوگوں کے مراتب سے بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک کلام (۵) ایک اور وجہ فضیلت یہ ہوتی ہے کہ جو چیز پیش کی جائے اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔قرآن کریم کی فضیلت اس لحاظ سے بھی ثابت ہوتی ہے۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے جس کے متعلق لوگ بحث کرتے رہتے ہیں کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔آج میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ اپنے مطالب کے لحاظ سے کیسی ضروری اور اہم ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فيه۔۲ صرف یہی ایک کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں باقی سب میں ملاوٹ ہے۔تورات سے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا ایک ایک لفظ خدا کا ہے بلکہ اس میں ایک جگہ تو یہاں تک لکھا ہے خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا۔اور اس