حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد

by Other Authors

Page 2 of 19

حضرت فاطمہ ؓ بنتِ اسد — Page 2

حضرت فاطمہ بنت اسد 2 سے بہت سی خوبیوں کی مالک تھیں۔چنانچہ حضرت عبدالمطلب نے انہیں اپنی بہو بنانے کے لئے پسند کر لیا اور اپنے بیٹے عبد مناف (ابو طالب) سے اُن کا نکاح کر دیا۔حضرت فاطمہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جن سے باضمی اولاد پیدا ہوئی اور اس طرح سے آپ عرب میں حسب نسب کے اعتبار سے بھی امتیازی درجہ رکھتی تھیں۔حضرت فاطمہ اُن خوش نصیب ماؤں میں سے تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نیک اولا د عطا فرمائی۔وہ خود بھی صحابیہ تھیں اور اولاد نے بھی صحابی کا رتبہ پایا۔اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں۔بیٹوں کے نام حضرت طالب ، حضرت عقیل ، حضرت جعفر اور حضرت علی مرتضیٰ اور بیٹیوں کے نام حضرت اُم ہانی ، حضرت جمانہ اور حضرت ربطہ تھے (3) آپ کی اولاد میں سب سے پہلے حضرت علی کو ایمان لانے کی توفیق ملی۔جن کی عمر اُس وقت صرف بارہ سال تھی ، اور سب سے بڑارتبہ اور سعادت تو آپ کو خلفاء راشدین میں چوتھے خلیفہ بننے کی حاصل ہوئی جنگوں میں غیر معمولی بہادری کی وجہ سے شیر خدا کا عظیم اور بڑا خطاب بھی آپ کو ملا ایک اور سعادت اُس وقت نصیب ہوئی جب ہجرتِ مدینہ کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے آپ کو اپنے بستر پر لٹا یا اور یہ مخالفت کا وہ وقت تھا جب کفار مکہ نے آپ ﷺ کے قتل کا وقت بھی مقرر کر لیا تھا۔(4)