فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 60 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 60

ہے پوچھو تو بھی کوئی اُن کے وجود کا پتا دینے والا نہیں ان کی قبر کے نشان تک اس زمین سے مٹادیئے گئے جبکہ ایک بدنام طبقے کے قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی تھی دیکھو۔اول المکفرین کا کیا انجام ہوائی مولانا ثناء اللہ امرتسری تا جب مولوی ثناء اللہ امرتسری کے متعلق اُن کا ایک چاہتے دالا لکھتا ہے۔" ابو الوفاء حضرت مولینا ثناء اللہ مرحوم جب تک ہمارے درمیان زنده رہے ان کے اراد تمندا نہیں دین وملت کی آبرو سمجھتے رہے۔ان کی خدمت کو سراہاتے رہے ان کے تبحر علمی۔اُن کے کمال مناظرت، ان کی بے مثال تقریر اور اُن کی بے عدیل تحریر اور ان کی ذہانت و فطانت کی تعریف کر تے رہے۔وہ نا خیرا قوم جہاں کہیں تشریف سے گیا بخوم معتقدین رداق گوشه چشم من آشیانہ تشت دیتی میری آنکھوں کی پہلی میں تیرا گھر ہے۔کہتا ہوا اسے آنکھوں میں جگہ دیتا رہا۔اس مرد مجاہد کی زندگی گو اعداد کی ختنہ پردازیوں سے خالی نہ تھی۔مگر اکثر مواقع پر مخالفین بھی اس کی تعریف میں تبہ نہ بان نظر آتے تھے الغرض اس کے پاک وجود کو یا رو اغیار دوست و دشمن سب ہی واجب التعظیم اور قابل تائش سمجھتے نیز مفید اور نفع بخش بھی۔لیکن جونہی اس شیر بیشہ ملت کی آنکھیں بند ہوئیں، وہ بقول دا نایاں یونان رہنماؤں کی تیسری قسم میں شامل ہو گیا۔اسے یکسر بھلا دیا گیا۔فراموش کر دیا گیا۔اس کا نام زندہ رکھنے کا فرض جن افراد قوم جن احباب جن معتقدین اور جن اکابر جماعت پر عائد ہوتا تھا انہوں نے تجاہل عارفانہ سے نہیں، تغافل مجرمانہ سے کام لیا۔وہ اصحاب حسن پیر امید تھی کہ اس کے کام اور اس کے مشن کو مرنے نہیں دیں گے اس کے رخصت ہوتے ہیں بیگانے بن گئے اور اس طرح چپ سادھ لی جیسے وہ اس بزرگ سے توقف