فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 47
وم رتجانب اہل السنہ ص ۱۴۴ بحوالہ بریلویت تاریخ و عقائد ص۲۹۴) قارئین مسلمانوں میںنے سے کوئی بھی ایسا بڑا عالم نہیں جو معروف ہو یا کوئی مسلم میدر نہیں جس کے خلاف کفر کا فتوی نہ دیا گیا ہوں مندرجہ بالا افراد کے علاوہ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی، سید شبلی نعمانی ، مولانا الطاف حسین حالی، نواب مہدی علی خان۔مولانا ظفر علی خان ذو الفقار علی بھٹو، صدر ضیاء الحق وغیرہ ان سب کے خلاف فتوے موجود ہیں۔ان کے لئے کتاب بریلویت تاریخ و عقائد - رسالہ لیل و نہار فتویٰ جواب فتویٰ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔آنکھیں کھولنے کے لئے ان دو کا مطالعہ ہی کافی ہو گا۔ابھی حال ہی میں ایک شاعر محمدعلی مشکے خلاف مفتی حمد شبیر صدیقی دار العلوم شاه عالم احمدآباد نے ان کے دو اشعار پر کفر کا فتویٰ دیا ہے جو کہ سولہ سال پہلے لکھے گئے تھے مگر اس عالم کی مجھ میں اب آئے وہ دو شعر یہ تھے " اگر تجھ کو فرصت نہیں تو نہ آ مگر ایک اچھا نبی بھیج ہ بہت نیک بندے ہیں اب بھی ترے کسی پہ تو یارب وحی بھیج دے رچوتھا آسمان مثل اشاعت اول (۱۹۹۱ء) ان دو اشعار پر مولانا صاحب نے ان پر کفر کا فتوی صادر کرتے ہوئے انہیں سیدھے سیدھے دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔اور آخر میں مطالبہ کیا ہے کہ علوی نہ صرف کھلے عام تو بہ کریں بلکہ تو بہ کے بعد از سر نو اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کریں کیونکہ زیر بحث فتویٰ کے بعد اُن کا نکات خود نخود نسخ ہو گیا ؟ " د اخبار انقلاب روزه نامه بمبی پیر ۸ مئی ۱۹۹۵ ء ) فتویٰ دینے والے علماء کے رنگ بڑے ہی نرالے ہیں۔ہر نئی ایجاد اُ نہیں اسلام کیلئے خطرہ دکھائی دیتی ہے گاڑی ایجاد ہوئی اس پر فتویٰ کہ اس پر چڑھنا حرام ہے۔ہوائی جہانہ بنے اس پر فتوی دیا گیا۔ریڈیو ا یجاد ہوا اس پر فتویٰ کہ اُسے سننے والا کافر ہے کیونکہ اس میں شیطان بولتا ہے۔ٹی۔وی کی ایجاد ہوئی اس پر بھی کفر کا