فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 31
۳۱ جماعت " میں آج یہاں پریس کلب حیدرآباد میں فتوی دیتا ہوں کہ مودودی گمراہ کا فرادر خارج از اسلام ہے۔اس کے اور اس کی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی مولوی کے پیچھے نماز پڑھنا نا جائز اور حرام ہے اسکی ت سے تعلق رکھنا صریح کفر اور ضلالت ہے وہ امریکہ اور سرمایہ داروں کا ایجنٹ ہے۔اب وہ موت کے آخری کنارے پر پہنچ چکا ہے اور اب اسے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی اس کا جنازہ نکل کر رہے گا یہ د ہفت روزہ " زندگی" ارنومبر ۱۹۴۹ء منجانب جمعیتہ گارڈ۔لائلپور) جمعیتہ العلماء ہند نے فتوی دیتے ہوئے لکھا۔" مود و دلوں کا مسلک نہ صرف ہم احناف مقلدین امام اعظم ابو حنیفہ رحم الله علیہ کے خلاف ہے بلکہ وہ جمہور اہل سنت والجماعت کے خلاف بھی ہے۔اس لئے کسی مودودی خیال امام کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہیئے اور ایسے امام کو برخاست کر دینا ضروری ہے۔" ر کتبه تنگ اسلاف حسین احمد غفر له م ذیقعدہ ۱۳۷۳ھ ( صلاه جمعیتہ العلماء ہند ) سوم سولانا مفتی مظہر اللہ صاحب مولانا سید حسین احمد صاحب، مولانا وحید الدین اح ب کا ایک متفقہ فتویٰ شائع ہوا اس میں لکھا ہے کہ : " امریکہ اور انگلینڈ اور اسکارٹ لینڈ وغیرہ مشنریوں کی پشت پناه گورداسپور صوبہ پنجاب کا مودودی پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کے ایمان میں خلل ڈال کر عیسائی بنانا چاہتا ہے اور عیسائیوں کی حکومت پاکستان میں قائم کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہے یہ شخص خطرناک دہر یہ ہے پاکستان عدالت سے پھانسی کا حکم سنایا گیا۔لیکن احمدیوں کے رحم وکرم نے چودہ سال سب کے ساتھ جیل میں سڑنے نکلنے کی اجازت دلوادی۔شائع کرده محمد نجم الدین صدیقی والا جا ہی مدرس تنظیم حیدرآباد دکن انڈیا۔