فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت

by Other Authors

Page 135 of 158

فتاویٰ کفر اور ناجی جماعت — Page 135

فتاوی رضویه ۱۳۵ بلند هستم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے لیتے کرتے بہانے بنا کم کار و وے اپنے یہاں کے بعد کوئی یہ پہلے یا کا بلا لیں گے خدا کی تم ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م م م م م ا اتا ہے اور ان کے سامنے ہی میں کھیلتے ہی واحد تبار جل و علا رات ہے۔بیک ضرور وہ کفر کابل ہونے اور اسلام کے بعد کافر ہو نے لین ان کی قسموں کا اعتبار کر و دانه ها ایمان تهران پیشوایان کفرکی قسمیں کچھ نہیں، اتخن وا ایما نها جنة قصد و امن سبيل الله فلهم من اب معین وہ اپنی قسموں کو ھال بنا کر اللہ کی اہ سے روکتے ہیں لاجرم ان کے لئے ذلیل و خوارکرنے والا عدا ہے ان کے کفر کے سب اللہ نے ان پر لعن کی تو بہت کم ایمان لاتے ہیں وہ جو سول اللہ کو ایذا دیتے ہیں انکے لئے دردناک عذاب ہے، بیشک جو اللہ و رسول کو ایذا دیتے ہیں اللہ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت فرمائی اور ان کے لئے طیار کر رکھا ذلت دینے و الاعذاب طوائف مذکورمین را به نیجریه و قادیانی و فرمقلدین و یا بند به مکر و لالم الا عالی اجمعین ان آیات کری کے مصداق بالیقین اور قطعا یقین کفار مرتدین ہیں ان میں ایک آدھ اگر چہ کا فرقہی تھا اور صد با کفر اس پر لازم تھے، جسے نمٹ والا ولوی گراب اتباع و اذناب میں اصلا کوئی ایسانہیں جو طا یقینا اجا کافر کلام نہ ہو یا کہ من شدت فی کفره فقد کا جو ان کے اعمال ملعون پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور احادیث کہ سوال میں ذکر کیں بلاشبہ ان کے اگلے پھلے تا ہے متبوع سب ان کے مصداق ہیں، یقیناوہ سب بدعتی اور استقاق ناری جہنی اور جہنم کے گے ہیں مگر میں خوارج و روافض کے مثل کتار و انفض و وارن پر ظلم اوران و با بی کی کرشان خباثت ہے۔افضیوں خارجیوں کی قصد می نشانیاں صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ تعالی عنہم پر مصور میں اور ان کی گتانیوں کی اصل مطمح نظر حضرت انبیاء کرام اور خود حضور پر نور شافع یوم النشور میں لی الله علی علیہ وعلی هم دلم بی تفاوت و از کجاست تا کجا، ان تمام مقاصد اور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل سال اسیون و کو به شایه ولجان السبوت و فتاوی الحرمین و حسام الحرمین و تمہید ایمان وانباء المصطفى و خالص الاعتقاد وقصيدة الاستعداد اور اس کی شرح کشف ملال دیو بند یہ غیر اکثیرہ نبیرہ حافلہ کافلہ شافعیہ وافیہ قلعہ قاری میں ہے واللہ الحمدان کے مجھے اقتدا باطل محض ہے کہ حقال في النهي الاكيد ان کی کتب کا مطالع حرام ہے گر عالم کو فرض یہ دان سے میل جول قطعی حرام ان سے علم کلام حرام نہیں پاس بٹھانا حرام ان کے پاس بیٹھا حرام بیمار پڑیں ان کی عیادت حرام مر جائیں تومسلمانوں کاسا انھیں غسل و کفن دینا حرام ان کا جنازہ اٹھانا حرام ان پر نماز پڑھناحرام انھیں مقابر سلین میں ونی کرنا حرام ان کی تب سے جانا حرام انھیں ایصال ثواب کر نا حرام مثل نماز جنازه کفر قال الله تعالی و اما ينسيناه الشيطان فلا تقصد الحد الذاکری مید القوم الظالمین ، اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آئے پر ان ظالموں کے پاس بیٹھے اور فرماتا ہے ولا تو کنوا الی الذین ظلموا فت کو الفاس، اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمھیں دوزخ کی آگ چھوٹے گی، نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں، نایا کہ وايا هم لا يضلونكم ولا يفتونکو ان سے دور بھاگو اور انہیں اپنے سے دور کر وہ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں وہ تمھیں نے میں نہ ڈالدیں، دوسری حدیث میں ہے کہ فرما یالا تجالسوهم ولا تو الفوهم ولا نشار بو هه واذا مرضو الا لعود ودام جیسا کہ مولوی سعید بناری کے رسالہ ہدایہ المرتاب صنعت اور ان کے بیٹے او القاسم بنارس کے رسالہ" العرجون القدیم صفت اور نزدیگر اسے غیر مقلدین کے رسائل سے ظاہر رہے ہیں سو جب حدیث صحیح لا یو می سرجل سر جبلاً بالفسوق ولا يرميه بالكفر الله اسم تلاب عليه ان لوکین صاحبه کن امت کے یہ خود مشرک اور بے ایمان ہوئے یا نہیں۔مت اور نیز اس میں کہ رانی تیرانی کافر مرتد ہے یا نہیں، بینوا توجروا الجواب جواب سوال اول بلاعب طائفه تانه ف پرجو کیر از دم كفر بین سین، ہمارے رسائل الكوكبة الشمابيه على كفريات الى الوهابيه وسل السيوف الهندية على كفريات بابا النجدية و النهي الاكيد من الصلواة وس او على التقليل و غیرہا میں اس کا بیان شانی دورانی۔یہاں نہیں بعض وجوہ سے کلام کریں جبن کی طرف سائل فاضل نے اشارہ کیا۔وبالله التوفیق